نئی دہلی،15؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کی مخالفت میں دہلی سرحد پر ڈٹے کسانوں کی تحریک کا آج19 واں دن ہے- اپنے مطالبات منوانے کیلئے کسانوں نے پورے دن بھوک ہڑتال بھی کی،جس میں عام آدمی پارٹی سمیت کئی چھوٹی پارٹیوں نے ساتھ دیا لیکن مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں،بھوکے پیاسے کسانوں کی فریاد سننے کیلئے بھی مودی حکومت تیارنہیں ہے-
حکومت نے اپنے اڑیل رویہ سے واضح کردیا ہے کہ وہ قانون میں ترمیم کیلئے تو تیار ہے، لیکن قانون واپس نہیں لینے کا سوال ہی نہیں - اسی درمیان اب مرکزی مملکت وزیر برائے زراعت کیلاش چودھری نے کہا کہ کسان مرکزی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اپنی بات رکھیں اور اگر اس میں کچھ جوڑنا ہے یا کسی خدشہ کا ازالہ کرنا ہے تو کرسکتے ہیں، لیکن یہ پوری طرح سے رد نہیں ہوسکتا ہے-
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے منصوبے اور اعلان کے مطابق بہت ہی پرامن ماحول میں بھوک ہڑتال کی،جو بہت ہی تاریخی ثابت ہوئی-ہم یہاں اپنے مطالبات کیلئے بیٹھے ہیں،جب تک حکومت اسے تسلیم نہیں کرتی اس وقت تک کسان یہاں بیٹھے اور مستقبل کا لائحہ عمل تیارکرتے رہیں گے-مرکز کی مودی حکومت کی طرف سے بات چیت کا کوئی پیغام اب تک موصول نہ ہونے کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم دہلی کی سرحدوں کے کنارے چاروں طرف بیٹھے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں، اگر بات چیت کے ذریعہ حل نکلتا ہے، تو ہم اس کے لیے تیار ہیں -
انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اگر پولیس انتظامیہ نے ہماری ٹرالیوں کو روکا تو اوپر کا راستہ جام کریں گے اور ہمیں کچھ کہا تو گاؤں میں، تھانوں میں مویشی باندھیں گے-وزیر زراعت نے کہا کہ اترپردیش، کیرلا، تمل ناڈو، تلنگانہ، بہار اور ہریانہ کی10کسان تنظیموں نے زرعی قوانین کی توثیق کی ہے -ملک کا کسان مودی حکومت کے زرعی قوانین کی اہمیت کو’سمجھتا‘ ہے-
مرکزی وزیر پیوش گوئل کے مطابق ریاستوں کے کسان نمائندوں نے کہا ہے کہ پنجاب میں تحریک سیاسی طور پر جاری ہے- ان قوانین کو کسی قیمت پر واپس نہیں لیا جانا چاہئے-دوسری طرف وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ زراعت ایک اہم شعبہ ہے، اس کے خلاف فیصلہ لینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- موجودہ اصلاحات کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے گئے ہیں - کسانوں کے ساتھ بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں -ایک طرف بی جے پی تشہیر کر رہی ہے کہ ایم ایس پی جاری رہے گی-
دوسری طرف وزیر داخلہ امیت شاہ نے 8 دسمبر کو ہم سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ حکومت ایم ایس پی پر تمام23فصلیں نہیں خرید سکتی، کیونکہ اس پر 17لاکھ کروڑ روپے لاگت آئیں گے -خیال رہے کہ آل انڈیا کسان کوآرڈی نیشن کمیٹی سے وابستہ10تنظیموں نے وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے ملاقات کی ہے اور زر عی بلوں کی حمایت کی ہے- یہ تنظیمیں اترپردیش، کیرلا، تمل ناڈو، تلنگانہ، بہار اور ہریانہ سے ہیں - آر ایس ایس سے منسلک تنظیم سودیشی جاگرن منچ بھی (ایم ایس پی) کی حمایت کر رہی ہے- تنظیم کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کو ایم ایس پی کی ضمانت ملنی چاہئے- اس سے کم قیمت پر خریداری کو غیر قانونی قرار دیا جانا چاہئے-وہیں 16 دسمبر کو سپریم کورٹ کسانوں کو دہلی کی سرحدوں سے ہٹانے کیلئے درخواست کی سماعت کرے گا-
اس کی سماعت چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کے بنچ میں ہوگی- درخواست پیش کرنے وا لے رشبھ شرما کا کہنا ہے کہ کسانوں کی تحریک سے سڑکیں جام ہیں اور اس سے عام عوام پریشان ہو رہے ہیں - اس کے علاوہ کوروناوائرس کے پھیلاؤ کا بھی خطرہ ہے-وہیں دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کجریوال نے کسانوں کی بھوک ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے آج ’برت‘ رکھا ہے- انہوں نے اپنی پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے بھی ’برت‘ رکھنے کی اپیل کی ہے- دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب امریندر سنگھ نے کجریوال کے ’برت‘کو سیاسی چال قرار دیا ہے-دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کہا کہ ہمارے کسان ان دنوں مشکلوں میں ہیں، جن کو اپنے کھیتوں میں کام کرنا چاہئے وہ سردی کے دنوں میں سڑکوں پر بیٹھے ہیں - مجھے خوشی ہے کہ ملک کے عوام وکیلوں، اداکاروں، ڈاکٹروں تمام طبقہ کے لوگ تحریک کے حامی ہیں،ہم بھی کسانوں کے ساتھ ہیں -